تِرے بدن کو ہوا چھُو کے جب بھی آتی ہے
غزل کا کوئی حسیں شعر گُنگناتی ہے
زمیں ترانۂ دوزخ ابھی بھی گاتی ہے
نئی صدی ہے کہ شہنائیاں بجاتی ہے
یہ اور میرے ارادوں کو پُختہ کر دے گی
جو برق میرے نشیمن پہ دندناتی ہے
بُجھے چراغ جلانا تو معجزہ ٹھہرا
یہ دیکھیے کہ ہوا کس طرح بُجھاتی ہے
ادھر بھی سانپوں کی زد پر حیات ہے لرزاں
ادھر فضا کی گُھٹن ان کا دل جلاتی ہے
تِرا سراغ، نہ اپنا پتہ، نہ عِلمِ نجوم
نہ موت آئی، نہ کمبخت نیند آتی ہے
ہے سرفراز تقاضائے وقت بھی معلوم
پہ وہ روِش جو حسینوں کا دل لُبھاتی ہے
سرفراز اعظمی
No comments:
Post a Comment