Thursday, 21 May 2026

یہ داغ دل ترے رخ کا جواب ہو نہ سکا

 یہ داغ دل تِرے رُخ کا جواب ہو نہ سکا

چراغ لاکھ جلا،۔ آفتاب ہو نہ سکا

ہزار بار زمانے نے کروٹیں بدلیں

مِری وفا میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا

کہو کہ چھیڑ کے چھالوں کو کیا ملا آخر

لہو میں ڈُوب کے کانٹا گُلاب ہو نہ سکا

زمیں پہ جام بھی ٹُوٹے فلک پہ اختر بھی

شکست شیشۂ دل کا جواب ہو نہ سکا

مآل ولولۂ عرض شوق کیا کہیے

زبان کیسی نظر سے خطاب ہو نہ سکا

حریم دوست کی رفعت ارے معاذ اللہ

بجُز خیال کوئی باریاب ہو نہ سکا

وہ چشمِ مست کچھ ایسی جھُکی جھُکی سی رہی

بہ قدر حوصلہ کوئی خراب ہو نہ سکا

نظر نظر میں سما کر رہے بہر صورت

حجاب کر نہ سکے یا حجاب ہو نہ سکا

شفق نِکھر کے بھی تیری حریف بن نہ سکی

چمن سنور کے بھی تیرا جواب ہو نہ سکا

دمِ وِداع یہ مجبوریاں محبت کی

سلام کا بھی کسی کے جواب ہو نہ سکا


سروش لکھنوی

No comments:

Post a Comment