درد جب آنکھ سے ٹپکے گا تو آنسو ہو گا
اور وہ آنسو مِری رات کا جگنو ہو گا💔
کیا خبر تھی کہ صبا کا وہ سبک رو جھونکا
مجھ تلک آئے گا تو آگ بھری لُو ہو گا
میری آنکھوں میں سمٹ جائے تو وہ جسم گُلاب
مِری سانسوں میں بکھر جائے تو خُوشبو ہو گا
روتے روتے مِرے ہونٹوں پہ ہنسی جاگی ہے
دُکھ میں شاید مِرے آرام کا پہلو ہو گا
آرزو جو بھی ہو، وہ زخم بنے گی گوہر
تِیر جو بھی چلے، وہ دل میں ترازو ہو گا
سعید گوہر
No comments:
Post a Comment