جب میں دل کا حساب لِکھتا ہوں
غم کو اپنے گُلاب لکھتا ہوں
کوئی اُمید جب نہیں ہوتی
خُود کے خط کا جواب لکھتا ہوں
اتنا مایوس اس نے کر ڈالا
اس کا جلوہ حجاب لکھتا ہوں
لاکھ سمجھائے مجھ کو تُو ناصح
تیری باتیں عذاب لکھتا ہوں
ساری دُنیا ہے جانتی سرور
میں تو غزلیں خراب لکھتا ہوں
سرور لکھنوی
پربھات کمار
No comments:
Post a Comment