Friday, 29 May 2026

دریچے پر دیے رکھے ہوئے ہیں

 درِیچے پر دِیے رکھے ہُوئے ہیں

اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں

اگر میں دُھوپ میں تنہا کھڑا ہوں

تو اتنے سائے کیوں اُبھرے ہوئے ہیں

ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے

ہم اپنے آپ سے رُوٹھے ہوئے ہیں

دُکھی ہے جب سے صیّادوں کی ٹولی

پرندوں سے شجر لِپٹے ہوئے ہیں

لگے ہیں سستے اپنے آپ کو ہم

نظر میں سب کی جب مہنگے ہوئے ہیں

یہ ہِجرت صرف ہِجرت ہی نہیں ہے

ہماری رُوح کے ٹُکڑے ہوئے ہیں


رگھونندن شرما دانش

No comments:

Post a Comment