پھر لہُو رِسنے لگا ہے پاؤں سے
بہہ رہی ہیں ندیاں صحراؤں سے
چاندنی مجھ سے بہت مانوس ہے
مجھ کو نسبت ہے نا! تیرے گاؤں سے
زندگی تو دُھوپ بھی ہے، چھاؤں بھی
اور میں واقف نہیں ہوں چھاؤں سے
مجھ سے کل دانائی مِلنے آئی تھی
تھک گئی کیا شہر کے داناؤں سے
اے زمانے! مجھ سے وہ غم تو نہ چھین
پرورش کی جس کی میں چاؤں سے
نجمی! اپنی بات ہے سب سے جُدا
مِلتا ہے شجرہ میرا تنہاؤں سے
سخنور نجمی
No comments:
Post a Comment