Friday, 29 May 2026

تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا

 ایک خط کی چند سطریں


تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا

جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے

اور میری آنکھیں بھی

اور ہاں، ہاتھ بھی

میرے بوسے بھی 

جو تم کہیں رکھ کر بھُول گئی تھیں


فہیم جوزی

محمد اقبال کنور

No comments:

Post a Comment