میری چاہت دور ہو کر دیکھتے
مجھ کو پانا تھا تو کھو کر دیکھتے
داستانِ عشق 💓 لکھنا تھا اگر
انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے
نیند کو کیوں کہہ دیا اک مسئلہ
زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے
پھول جو بکھرے ہوئے ہیں باغ میں
ان کو لڑیوں میں پرو کر دیکھتے
🌳خود ہی اگ آتا تمنا کا شجر
بیج تو مٹی میں بو کر دیکھتے
کوئی بھی رہتا نہ پھر دامن میں داغ
آنسوؤں سے ان کو دھو کر دیکھتے
درد کے احساس سے دلشاد آپ
اپنی آنکھوں کو بھگو کر دیکھتے
دلشاد گورکھپوری
No comments:
Post a Comment