Sunday, 31 May 2026

دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا

 دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا

عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا

ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا

گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا

ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں

سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا

دوستو! کوئی بھی شکوہ نہ زباں تک آئے

زیست ہے شدّتِ احساس میں تپتے رہنا

روز پھُولوں کو بتاتی ہے کڑی دُھوپ یہ بات

تم سدا اپنی ہی بُو باس میں تپتے رہنا

سامنے لاکھ گھنی چھاؤں ہو، لیکن اے رند

دشت بے سایہ کو ہے گھاس میں تپتے رہنا


رند ساغری فتح گڑھی

No comments:

Post a Comment