Sunday, 24 May 2026

کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

 کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

میں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتا

خون دل کا ہوا تو یہ جانا

نقش کیوں دیر پا نہیں ہوتا

وقت کیوں ہے غبار آنکھوں میں

عکس بھی آشنا نہیں ہوتا

کچھ تو دل سے کہا ہے آنکھوں نے

زخم دل کیا ہرا نہیں ہوتا

پھر اسے ہی تلاش کرتا ہوں

جس کا کوئی پتا نہیں ہوتا

جو بھی اپنی زباں سے دیتا وہ

ذائقہ بد مزا نہیں ہوتا


رفعت شمیم

No comments:

Post a Comment