Tuesday, 26 May 2026

چراغ وقت کے ہاتھوں میں جل کے گرتے ہیں

 چراغ وقت کے ہاتھوں میں جل کے گِرتے ہیں

مِرے خیال پہ موسم بدل کے گرتے ہیں

لبوں پہ برف کی تہہ، آنکھ میں دہکتا شور

سوال شام کے کاسے میں ڈھل کے گرتے ہیں

خموشیوں میں ہیں مدفون کتنے صدیوں کے گِیت

زباں جو کھولوں تو لمحے پِگھل کے گرتے ہیں

وہ جو خلا میں اک آواز بُن رہا تھا خموش

اسی کے خواب مِری آنکھ مل کے گرتے ہیں

کسی کی یاد نے مجھ میں ہوا سی چھیڑی ہے

درونِ ذات  کئی  در تو کُھل کے گرتے ہیں

ہوا کے جسم پہ رکھا ہے میں نے عکسِ خیال

کہ میرے لمس سے کاغذ بھی جل کے گرتے ہیں

بدن میں دُھند کی تہہ جیسے جم گئی ہو کوئی

نظر کے پار سے منظر پھسل کے گرتے ہیں


زبیر احد

No comments:

Post a Comment