زباں دراز سے حُسنِ کلام کرتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں اسے رام رام کرتے ہوئے
وہ کر رہا ہے غلط، عِلم اس کو بھی ہے یہ
وہ رو رہا ہے مجھے اِنہدام کرتے ہوئے
ہُوا تھا حُکم؛ بُجھا دو ابھی چراغوں کو
کہ کوئی دیکھ نہ لے ٭انہزام کرتے ہوئے
شُروع دن سے ہمارے خلاف ہے دُنیا
شُروع دن سے ہمیں قتلِ عام کرتے ہوئے
وہ چہرہ ڈھک کہ چلاتا تھا اس لیے رکشہ
نہ دیکھ لے کوئی اس کو یہ کام کرتے ہوئے
رمیز واحد میرٹھی
٭انہزام: شکست، ہارنا، پسپائی
No comments:
Post a Comment