Monday, 25 May 2026

رخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے

 رُخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے

غیر کا جو رستہ ہے اس کو آج چھوڑ دے

عشق میں انا کا پاس جو ضرور رکھنا ہے

پھر یہ تیرے بس کا کام ہے نہیں یہ چھوڑ دے

آبرو رہی تِری اور وصل بھی نصیب

ہو تِرے نصیب میں یہ اُمید توڑ دے

وہ ہی قُرب پائے گا وہ ہی ہو گا بامُراد

دربدر کی چاکری جو ایک بار چھوڑ دے

عشق میں مؤحد ہو، شرک چھوڑ پیار میں

اب تمام تر اُمید اس کے در سے جوڑ دے

آشنا اسی سے ہو، گر فلاح چاہیے

اس سے سب اُمید رکھ، ماسوا کو چھوڑ دے


ساحر سلہری

No comments:

Post a Comment