Friday, 29 May 2026

زندگی کو اک سزا کہنا پڑا

 اک سِتمگر کو خُدا کہنا پڑا

ناروا کو بھی روا کہنا پڑا

یورشِ رنج و مصائب الاماں

زندگی کو اک سزا کہنا پڑا

چارہ گر جب کچھ نہ درماں کر سکے

دردِ دل 💔 کو لا دوا کہنا پڑا

واہ ری حالات کی مجبوریاں

نا خُدا کو بھی خُدا کہنا پڑا

کس قدر مجرُوح تھا میرا ضمیر

آدمی کو جب خُدا کہنا پڑا

مجھ کو رہبر آج ان کی بزم میں

ہائے! کیا کہنا تھا کیا کہنا پڑا


رہبر جدید

No comments:

Post a Comment