میں پرانا ہو گیا ہوں اب نیا کر دے مجھے
میں ہوں صورت آشنا، دل آشنا کر دے مجھے
وہ میرے پہلو میں بیٹھے دو گھڑی آرام سے
ریشمی سایہ گھنیرے نیم کا کر دے مجھے
ہر نئے دن اک نئی خواہش، نیا عزمِ سفر
بادِ صر صر اور کبھی بادِ صبا کر دے مجھے
راستے کی دھول بن کر کب تلک اڑتا رہوں
طاق میں رکھا ہوا روشن دِیا کر دے مجھے
سازشیں کرنے لگی ہے تیرگی میرے خلاف
روشنی کا سلسلہ در سلسلہ کر دے مجھے
کون کس کو زندگی بھر یاد رکھتا ہے سحر
میں کہ گزرا وقت ہوں آیا گیا کر دے مجھے
سحر سعیدی
منیرالدین
No comments:
Post a Comment