Wednesday, 27 May 2026

دل کے ہر ایک گوشے میں رقص شرر ہوا

 دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا

جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا

لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا

دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا

اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر

میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا

بگڑی ہے ایسی شکل حوادث کی مار سے

حیران آئینہ بھی مجھے دیکھ کر ہوا

اک بار ہی تو کاندھے پہ رکھا تھا اس نے سر

پھر ایسا اتفاق کہاں عُمر بھر ہوا

جس کی نظر میں وُسعتِ خواب و خیال تھی

اس کا وجود مرکزِ اہلِ نظر ہوا

پہلے تو اک مکان کی صُورت ہی تھا فقط

تشریف آپ لائے تو گھر میرا گھر ہوا

اس کو ہماری دشت نوردی سے ہے خُوشی

اس سے غرض نہیں کہ کوئی در بدر ہوا

سب کی سمجھ میں آتا کہاں ہے یہ عِلم و فن

جس نے سمجھ لیا اسے وہ دیدہ ور ہوا

رہبر طویل عمر بھی جینے سے فیض کیا

کچھ مقصدِ حیات نہ پورا اگر ہوا


معید رہبر لکھنوی

No comments:

Post a Comment