Monday, 25 May 2026

الفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا

 اُلفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا

ہم اس کے ہو گئے جو ہمارا نہ ہو سکا

جاتے ہیں لوگ کُوئے محبت میں بار بار

ہم سے تو پھر یہ عزم دوبارا نہ ہو سکا

جلوے سے پیشتر ہی کیا اس نے دل طلب

اتنا بھی اعتبار ہمارا نہ ہو سکا

رہتے ہیں لوگ صحبتِ اہلِ خِرد میں خُوش

اپنا تو ایک دن بھی گُزارا نہ ہو سکا

ہونے کو اور کیا نہ ہوا عشق میں مگر

جاں بر تِرے فراق کا مارا نہ ہو سکا

ہم ان پر اختیار کی اُمید کیا کریں

جب دل پہ اختیار ہمارا نہ ہو سکا

تھامے ہوئے تھے عقل تو دامانِ احتیاط

لیکن مِرے جنُوں کو گوارا نہ ہو سکا

لُٹ تو چکے تھے عشق کے سودے میں ہم مگر

محسوس عُمر بھر بھر یہ خسارا نہ ہو سکا

ساحر کسی سے کیا ہمیں اُلفت کی ہو اُمید

جب دل بھی دوستدار ہمارا نہ ہو سکا


ساحر سیالکوٹی

رگھبیر داس

No comments:

Post a Comment