نروان سے اقتباس
دھیان کی کیاریوں میں
سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں
اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے
آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں
آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں
دید کی راہیں سنسان پڑی ہیں
آؤ ہم خیال کی ایک کرن بن جائیں
اور ہاتھوں سے آزاد ہو جائیں
فہیم جوزی
محمد اقبال کنور
No comments:
Post a Comment