Saturday, 30 May 2026

آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں

 نروان سے اقتباس


دھیان کی کیاریوں میں

سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں

اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے

آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں

آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں

دید کی راہیں سنسان پڑی ہیں

آؤ ہم خیال کی ایک کرن بن جائیں

اور ہاتھوں سے آزاد ہو جائیں


فہیم جوزی

محمد اقبال کنور

No comments:

Post a Comment