Wednesday, 27 May 2026

مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں تیری نمناک آنکھیں

 اے کاش


مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں

تیری نمناک آنکھیں

تیرے یہ بے تاب آنسو

مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل

دل میرا کہتا ہے مجھ سے

یہ تیرے اشکوں کے موتی

ڈھل کر گرنے سے پہلے

انہیں اپنی پلکوں پہ سجا لوں

مسکرا کر تم کو دیکھوں

اور تمہیں بھی

ہنسنے کی ایک وجہ دوں

یوں سارے غم تمہارے

پل بھر میں بھلا دوں

اور زندگی میں

میں خوشی کے رنگ بھر دوں

کاش

ایسا کر سکوں میں

اے کاش


ذاکرہ شبنم 

No comments:

Post a Comment