Sunday, 24 May 2026

سلگے ہوئے من کو اب یہ کس نے ہوا دی ہے

 سُلگے ہُوئے من کو اب یہ کس نے ہوا دی ہے

بُجھتے ہُوئے شُعلوں نے پھر آگ لگا دی ہے

اک پل جو ہے مُٹھی میں تُم اس کو امر کر لو

بِیتے ہُوئے لمحوں نے کب کس کو صدا دی ہے

تُم لوٹ کے آ جانا جب دل میں کسک جاگے

ہم نے تو ہواؤں کو جو بِیتی سُنا دی ہے

کُچھ فرق نہیں رکھا، اپنے میں پرائے میں

جو شخص ملا ہم کو، ہم نے تو دُعا دی ہے

معصُوم تھا دل پہلے، معصُوم تو اب بھی ہے

خُود اس کو تھا اُکسایا، پھر خُود ہی سزا دی ہے

کیسا یہ غضب ڈھایا، خُود اپنے ہُوئے دُشمن

اک بات نہ کہنے کی، کس کس کو سُنا دی ہے

یہ مُلک مِرے مولا، رکھ اپنی اماں میں تُو

بُنیاد پرستوں نے،۔ بُنیاد ہِلا دی ہے

ہاں دل ہو کُشادہ جبآنے سے جھجکنا کیا

آؤ تو چلے آؤ،۔ یہ سب کو منادی ہے

خندق جو ہے اُس جانب، تُم اس کو ذرا بھرنا

دیوار ادھر جو تھی، وہ میں نے گِرا دی ہے

گو خاص نہیں کوئی، پھر بھی میرے شعروں نے

سُنتے ہیں کہ لوگوں میں، اک دھُوم مچا دی ہے

اب اور صبا کیا ہو، اس بُت کے لیے ہم نے

اک ذات جو تھی ہیرا، مٹی میں مِلا دی ہے


سبکتگین صبا 

No comments:

Post a Comment