یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں
ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں
مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی
یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں
میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی
یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں
مِرے لہجے میں یہ تاثیر کب تھی
عجائب اور طلسماتوں کے دن ہیں
تو اب ٹھہرا ہے تجھ سے دُور رہنا
دُعاؤں کے، مناجاتوں کے دن ہیں
جسے درپیش ہے تنہا مسافت
اسی کشتی پہ برساتوں کے دن ہیں
اسی عالم کو شادی کہہ رہی ہوں
تِری یادوں کی باراتوں کے دن ہیں
تمہیں یہ سعدیہ منصب مبارک
تواضع کے مداراتوں کے دن ہیں
سعدیہ روشن صدیقی
No comments:
Post a Comment