Thursday, 28 May 2026

لگا ہے آئینہ نظر چرانے ہم کو دیکھ کر

 لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر

نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر

شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب

لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر

ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر

لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر

تھا تھاما ہم نے ہر قدم پہ ننھے سے جو قدموں کو

چھُڑا کے ہاتھ اب لگا ہے جانے ہم کو دیکھ کر

ہمارے بِن تھے میکدے وہ بے سرور بے خمار

کہ دیکھو پھر نشہ لگا ہے چھانے ہم کو دیکھ کر


دویا جین/دیویا جین

Divya Jain

No comments:

Post a Comment