لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر
نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر
شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب
لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر
ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر
لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر
تھا تھاما ہم نے ہر قدم پہ ننھے سے جو قدموں کو
چھُڑا کے ہاتھ اب لگا ہے جانے ہم کو دیکھ کر
ہمارے بِن تھے میکدے وہ بے سرور بے خمار
کہ دیکھو پھر نشہ لگا ہے چھانے ہم کو دیکھ کر
دویا جین/دیویا جین
Divya Jain
No comments:
Post a Comment