Saturday, 8 July 2023

تیری بے رخی اب پرانی ہوئی

 تیری بے رُخی اب پرانی ہوئی

کہ بس ختم اب یہ کہانی ہوئی

یہ بالوں میں چاندی جو اُتری میاں

تو کافور سمجھو جوانی ہوئی

تمہاری جفاؤں کا انداز دیکھ

وفا شرم سے پانی پانی ہوئی

تھما کیسے دریائے اُلفت تِرا

بتا کیا وہ اس کی روانی ہوئی

یہ چادر اُداسی کی ہمدم مِرے

تیرے ساتھ کی اب نشانی ہوئی


مصروفہ قادر

No comments:

Post a Comment