تیری بے رُخی اب پرانی ہوئی
کہ بس ختم اب یہ کہانی ہوئی
یہ بالوں میں چاندی جو اُتری میاں
تو کافور سمجھو جوانی ہوئی
تمہاری جفاؤں کا انداز دیکھ
وفا شرم سے پانی پانی ہوئی
تھما کیسے دریائے اُلفت تِرا
بتا کیا وہ اس کی روانی ہوئی
یہ چادر اُداسی کی ہمدم مِرے
تیرے ساتھ کی اب نشانی ہوئی
مصروفہ قادر
No comments:
Post a Comment