آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک
دُھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تک
کُھل گئیں الفاظ کی سب کھڑکیاں
اور ان سے جھانکتا ہوں دیر تک
جس گلی کے دونوں رستے بند ہیں
اس گلی میں دوڑتا ہوں دیر تک
خامشی بھی کوئی جھرنا ہے اگر
کس لیے پھر بولتا ہوں دیر تک
چیونٹیوں کے بل میں پانی ڈال کر
کیوں تماشا دیکھتا ہوں دیر تک
غنی غیور
No comments:
Post a Comment