Saturday, 8 July 2023

میری پلکوں پہ خواب رہنے دے

میری پلکوں پہ خواب رہنے دے

کچھ نہ کچھ اِضطراب رہنے دے

حق بیانی تو میرا شیوہ ہے

مجھ کو زیرِ عتاب رہنے دے

تجھ کو فُرصت ملے تو پڑھ لینا

مجھ کو مثلِ کتاب رہنے دے

تیری آنکھیں تو خود نشیلی ہیں

ذکرِ جام و شراب رہنے دے

تشنگی جب مِرا مقدر ہے

میرے حق میں سراب رہنے دے

کوئی آیا ہے سج کے گُلشن میں

آج ذکرِ گُلاب رہنے دے

لکھ دے واعظ گُناہ سب مجھ پر

نام اپنے ثواب رہنے دے

زندگی تو حباب ہے صارم

اب مجھے تو حباب رہنے دے


عذیق الرحمٰن صارم

No comments:

Post a Comment