اداس کر کے اگر تو نے چھوڑ جانا تھا
تو پھر خلوص کی دولت سے کیوں نوازا تھا
خبر نہیں ہے کسی کو میرے خدا کے سوا
بچھڑ کے تجھ سے اکیلے میں کتنا رویا تھا
کبھی کبھی جو طبیعت خراب ہو جاتی
وہ کتنے پیار سے ماتھے پہ ہاتھ رکھتا تھا
اسے ہمیشہ نظر کا عذاب کہتا رہا
نقاب کی طرح چہرے پہ جس کا چہرہ تھا
تھا چاندنی کا سمندر میری نگاہوں میں
میں اس میں ڈوب کے نکلا تھا پھر بھی پیاسا تھا
تیرے خیال کے وادی میں جا کے آیا ہوں
اُفق اُفق تیرا پھیلا ہوا اجالا تھا
کبھی کسی سے وفا کا صِلہ نہیں مانگا
یہی بہت ہے کہ شدت سے تجھ کو چاہا تھا
جلا کے دل کو نکلنا پڑا صبح گھر سے
شہر میں دن کو بھی حسنی بہت اندھیرا تھا
غلام حسن حسنی
No comments:
Post a Comment