Saturday, 8 July 2023

اداس کر کے اگر تو نے چھوڑ جانا تھا

 اداس کر کے اگر تو نے چھوڑ جانا تھا

تو پھر خلوص کی دولت سے کیوں نوازا تھا

خبر نہیں ہے کسی کو میرے خدا کے سوا

بچھڑ کے تجھ سے اکیلے میں کتنا رویا تھا

کبھی کبھی جو طبیعت خراب ہو جاتی

وہ کتنے پیار سے ماتھے پہ ہاتھ رکھتا تھا

اسے ہمیشہ نظر کا عذاب کہتا رہا

نقاب کی طرح چہرے پہ جس کا چہرہ تھا

تھا چاندنی کا سمندر میری نگاہوں میں

میں اس میں ڈوب کے نکلا تھا پھر بھی پیاسا تھا

تیرے خیال کے وادی میں جا کے آیا ہوں

اُفق اُفق تیرا پھیلا ہوا اجالا تھا

کبھی کسی سے وفا کا صِلہ نہیں مانگا

یہی بہت ہے کہ شدت سے تجھ کو چاہا تھا

جلا کے دل کو نکلنا پڑا صبح گھر سے

شہر میں دن کو بھی حسنی بہت اندھیرا تھا


غلام حسن حسنی

No comments:

Post a Comment