Saturday, 8 July 2023

ایسا نہیں کہ تجھ کو پکارا نہیں گیا

 ایسا نہیں کہ تجھ کو پکارا نہیں گیا

تجھ تک مگر سندیسہ ہمارا نہیں گیا

آویزاں آج تک ہے میرا دل صلیب پر

مصلوب کر کے پھر یہ اتارا نہیں گیا

اب تک تمہاری یاد مِرے سینے میں ہے بند

یعنی، ابھی تو سارے کا سارا نہیں گیا

سنتا ہوں نقشِ پا ہیں میرے اب تلک وہیں

گو میں تِری گلی میں دوبارہ نہیں گیا

منزل ہماری دور، ابھی اور دور ہے

ابھی اس طرف زمانے کا دھارہ نہیں گیا

آتش فشاں کے جیسا مِرا پھٹ پڑا تھا دل

صد شکر، تجھ پہ کوئی شرارہ نہیں گیا

سہہ کر اذیتیں کھڑے اختر ہیں سوچتے

یک لخت کس لیے ہمیں مارا نہیں گیا


حسنین اختر

No comments:

Post a Comment