ایسا نہیں کہ تجھ کو پکارا نہیں گیا
تجھ تک مگر سندیسہ ہمارا نہیں گیا
آویزاں آج تک ہے میرا دل صلیب پر
مصلوب کر کے پھر یہ اتارا نہیں گیا
اب تک تمہاری یاد مِرے سینے میں ہے بند
یعنی، ابھی تو سارے کا سارا نہیں گیا
سنتا ہوں نقشِ پا ہیں میرے اب تلک وہیں
گو میں تِری گلی میں دوبارہ نہیں گیا
منزل ہماری دور، ابھی اور دور ہے
ابھی اس طرف زمانے کا دھارہ نہیں گیا
آتش فشاں کے جیسا مِرا پھٹ پڑا تھا دل
صد شکر، تجھ پہ کوئی شرارہ نہیں گیا
سہہ کر اذیتیں کھڑے اختر ہیں سوچتے
یک لخت کس لیے ہمیں مارا نہیں گیا
حسنین اختر
No comments:
Post a Comment