خموشی بھی زبانِ مدعا معلوم ہوتی ہے
محبت التجا ہی التجا معلوم ہوتی ہے
مجھے تو اپنی بربادی کا شکوہ ہے مقدر سے
یہ میں نے کب کہا ان کی خطا معلوم ہوتی ہے
مجھے برباد غم ہو کر تِرے در تک پہنچنا ہے
یہ بربادی مِری خود رہنما معلوم ہوتی ہے
الگ ہے سب سے انداز جنوں میری محبت کا
مِری وحشت زمانے سے جدا معلوم ہوتی ہے
مِری ہر بات عظمت ترجمانِ اہلِ عالم ہے
یہ دنیا مجھ کو میری ہمنوا معلوم ہوتی ہے
عظمت بھوپالی
No comments:
Post a Comment