Monday, 5 January 2026

دودھ کی نہریں نکالیں جانفشانی بھی کریں

 دودھ کی نہریں نکالیں جانفشانی بھی کریں

اب نہیں ممکن کہ ہم پتھر کو پانی بھی کریں

عزم سارے طاق پر تم نے سجا کر رکھ دئیے

اور پھر اُمید ہم سے، پاسبانی بھی کریں

مصلحت آمیزیاں سب غیر مُمکن کچھ نہیں

تم کہو تو وقت کو ہم پانی پانی بھی کریں

ٹانک دیں آنکھوں کو اپنی سرحدوں پر دوستو

دُشمنوں سے ملک کی یوں نگہبانی بھی کریں

خُوشبوئیں بھی ہم ہی بکھرائیں زمانے میں رسا

ریگِ صحرا میں بھی جائیں گُلفشانی بھی کریں


محمد قاسم رسا

No comments:

Post a Comment