دودھ کی نہریں نکالیں جانفشانی بھی کریں
اب نہیں ممکن کہ ہم پتھر کو پانی بھی کریں
عزم سارے طاق پر تم نے سجا کر رکھ دئیے
اور پھر اُمید ہم سے، پاسبانی بھی کریں
مصلحت آمیزیاں سب غیر مُمکن کچھ نہیں
تم کہو تو وقت کو ہم پانی پانی بھی کریں
ٹانک دیں آنکھوں کو اپنی سرحدوں پر دوستو
دُشمنوں سے ملک کی یوں نگہبانی بھی کریں
خُوشبوئیں بھی ہم ہی بکھرائیں زمانے میں رسا
ریگِ صحرا میں بھی جائیں گُلفشانی بھی کریں
محمد قاسم رسا
No comments:
Post a Comment