ثواب کچھ نہ ملا بس گناہ کرتے رہے
تمام عمر یوں ہی دل تباہ کرتے رہے
عجب نہیں کہ بہک جاؤ راہ سے اپنی
یوں ہی ہر اک سے جو تم رسم و راہ کرتے رہے
ہمیں تو راس بالآخر اندھیرے آ ہی گئے
وہ عمر بھر طلب مہر و ماہ کرتے رہے
یہ اور بات کہ ان کو خبر نہ ہو پائی
ہم ان سے عشق مگر بے پناہ کرتے رہے
جو تیرا ساتھ نہ پایا تو کوئی غم بھی نہیں
یہ کم نہیں ہے کہ خود سے نباہ کرتے رہے
ہمارے جرم کی تائید خود ہوئی ہم سے
ہم اپنے جسم کی اعضاء گواہ کرتے رہے
یہ اپنی اپنی طبیعت کی بات ہے رضواں
ہم آہ آہ تو وہ واہ واہ کرتے رہے
ڈاکٹر رضوان الرضا
No comments:
Post a Comment