Monday, 5 January 2026

ثواب کچھ نہ ملا بس گناہ کرتے رہے

 ثواب کچھ نہ ملا بس گناہ کرتے رہے

تمام عمر یوں ہی دل تباہ کرتے رہے

عجب نہیں کہ بہک جاؤ راہ سے اپنی

یوں ہی ہر اک سے جو تم رسم و راہ کرتے رہے

ہمیں تو راس بالآخر اندھیرے آ ہی گئے

وہ عمر بھر طلب مہر و ماہ کرتے رہے

یہ اور بات کہ ان کو خبر نہ ہو پائی

ہم ان سے عشق مگر بے پناہ کرتے رہے

جو تیرا ساتھ نہ پایا تو کوئی غم بھی نہیں

یہ کم نہیں ہے کہ خود سے نباہ کرتے رہے

ہمارے جرم کی تائید خود ہوئی ہم سے

ہم اپنے جسم کی اعضاء گواہ کرتے رہے

یہ اپنی اپنی طبیعت کی بات ہے رضواں

ہم آہ آہ تو وہ واہ واہ کرتے رہے


ڈاکٹر رضوان الرضا

No comments:

Post a Comment