Monday, 5 January 2026

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے

 نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے

نہ آئے موت تو بے موت کیسے مر جائے

میں اس خیال سے ان سے گلا نہیں کرتا

کہیں نہ پھول سے چہرے کا رنگ اتر جائے

تو ہی بتا دے مجھے بے کسیٔ منزل شوق

جو راہ سے بھی نہ واقف ہو وہ کدھر جائے

ہزاروں طور نہیں چشم معرفت کے لئے

جہاں جہاں تری معجز نما نظر جائے

تجلیات سے معمور ہے ہر اک ذرہ

بلا سبب نہ کوئی کوہ طور پر جائے

نہ پی تو اپنے یہ آنسو مذاق میں ساقی

کہیں نہ زہر محبت میں کام کر جائے


ساقی لکھنوی

اولاد علی رضوی

No comments:

Post a Comment