Monday, 5 January 2026

توحید کا ساون ہے برسا سرکار مدینہ آئے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


توحید کا ساون ہے برسا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

گلزارِ نبوت مہک اُٹھا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

اب فرش کا عرش تلک قد ہے، نبیوں کے نبی کی آمد ہے

بشریت کا سر اونچا ہوا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

ظلمت نے موت کا سوچ لیا، خود اپنا چہرہ نوچ لیا

ہر سمت سویرا جاگ گیا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

مغرور جہل مجبور ہوا، ہر ذرہ مثلِ طور ہوا

خورشیدِ رسالت ہے چمکا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

خوشرنگ سبھی آکاش ہوئے، شیطاں سب زندہ لاش ہوئے

جبریلؑ کے لب پر تھا نعرہ، سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

ہر خِشتِ کعبہ دمک اٹھی، درزوں سے روشنی پھوٹ پڑی

مسرور ہوا اتنا کعبہ سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

جب سیرِ جناں کو شاہ چلے حوروں سے ملائک نے پوچھا

تیاری مکمل ہو گئی کیا؟ سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

یہ حسن کہاں سے لائے ہو پوچھا جنت کے باغوں نے

خود بول کے کہتا تھا مکہ سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں

زہراؑ کے بابا حسنی بھی یہ بات کہے کہ گھر میرے

واہ صلِ علیٰ واہ صلِ علیٰ سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں


حسنی سید

سید محمد حسنین الثقلین

No comments:

Post a Comment