Thursday, 15 September 2022

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیراﷺ

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیراﷺ

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا

فیض ہے یا شہﷺ تسنیم نرالا تیراﷺ

آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا

اغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرا

اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا

فرش والے تری شوکت کا علو کیا جانیں

خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیراﷺ

تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں

کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا

بحر سائل کا ہوں سائل نہ کنوئیں کا پیاسا

خود بجھا جائے کلیجہ مرا چھینٹا تیراﷺ

چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اس کے خلاف

تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیراﷺ

آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں جانیں سیراب

سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیراﷺ

تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال

جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا

تو جو چاہے تو ابھی میل مرے دل کے دھلیں

کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیراﷺ

کس کا منہ تکیے کہاں جائیے کس سے کہیے

تیرے ہی قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا

تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری

جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیراﷺ

حرم و طیبہ و بغداد جدھر کیجے نگاہ

جوت پڑتی ہے تری نور ہے چھنتا تیراﷺ

تری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع

جو مِرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیراﷺ


احمد رضا خان فاضل بریلوی

No comments:

Post a Comment