Thursday, 15 September 2022

اللہ شوق دے مجھے نعت شریف کا

 عارفانہ کلام نعت و منقبت


اللہ شوق دے مجھے نعت شریف کا

شہرہ ہو خوب میرے کلام لطیف کا

سرسبز کِشتِ دل ہے محمدؐ کے عشق میں

کیا اس زمیں میں کام ربیع و خریف کا

اللہ رے اس کے علم لُدنی کا معجزہ

اُمیﷺ سبق پڑھائے کتاب شریف کا

حسرت جس آبرو کی سلیمانؑ کو رہی

یثرب میں ہے وہ مرتبہ مور ضعیف کا

شیطان بھاگتا ہے محمدﷺ کے نام سے

کیا خوف اس پلید و خبیث و کثیف کا

مداح مصطفیٰﷺ سے کرے کوئی کیا بحث

سبحان ہے خوشہ چیں مِری طبع ظریف کا

ادنٰی شجاعت احمد مُرسلﷺ کی دیکھنا

کیا حال جنگ بدر میں تھا ہر حریف کا

ہے ناتواں عشق محمدﷺ میں پہلواں

رستم سے ہو مقابلہ کب اس نحیف کا

صبرِ جمیل تھا کہ ستم پر ستم سہا

بُو جہل و بُو لہب سے ذلیل و خفیف کا

اے داغ شعر ڈھل گئے نعت شریف میں

ہے فکر قافیہ نہ تردد ردیف کا


داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment