Thursday, 15 September 2022

رات کی رانی مہکی تھی

 خواب


رات کی رانی مہکی تھی

ہر سو خوشبو بہتی تھی

ایسے میں اک شہزادہ

بن کے دُلہا آیا تھا

شرماتی اور گھبراتی 

ہنستی، کِھلتی، مٗسکاتی 

سُندر رُوپ کی شہزادی 

دُلہن بن کے بیٹھی تھی

دیکھنے والے لوگ ان کو

چاند اور سورج کہتے تھے

کتنی پیاری جوڑی ہے یہ

سب دل میں یہ کہتے تھے

تھوڑی  رات مزید ڈھلی  

چاند کی پالکی آن رہی 

تب ہی دُلہا دُلہن دونوں

ہاتھ میں تھامے ہاتھ چلے

ہر سُو پھر اس منظر میں جی کے

رنگ، دعا اور خوشیاں تھیں

ہر سو مہکے مہکے پھول

ہر سو روشن بتیاں تھیں

تب ہی اس کی آنکھ کھلی

خواب سا منظر خواب ہوا

وہ جو دل میں رہتا تھا

وہ بھی ایک سراب ہوا؟ 

یعنی وہ سب دُلہا دُلہن؟ 

خوشبو، رات کی رانی، چاند

بس اک رات کا منظر تھا؟ 

وہ سب خواب کا منظر تھا


تعبیر علی

No comments:

Post a Comment