Thursday, 15 September 2022

اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی

 اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی

اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی

کچھ دیر جلتا رہتا ہواؤں کے رو برو

گھر کے دِیے سے اتنی مروّت نہ ہو سکی

اس کم وفا نے زخم وہ بخشا کہ اس کے بعد

ہم سے تو ساری عمر محبت نہ ہو سکی

وہ بھی سمجھ سکا نہ مِری وحشتوں کا حال

مجھ سے بھی اپنے غم کی وضاحت نہ ہو سکی

سوچو تو پور پور تھکن سے ہے چُور چُور

دیکھو تو طے ذرا سی مسافت نہ ہو سکی


محمود احمد غزنوی 

No comments:

Post a Comment