Saturday, 14 August 2021

آدھا حصہ بھیج رہا ہوں صرف کہانی کاروں پر

 آدھا حصہ بھیج رہا ہوں صرف کہانی کاروں پر

باقی لعنت سچ کو روکنے والے سب کرداروں پر

جانے کیا آفت اُتری ہے دل کو چین نہیں آتا

درگاہوں پر دھاگے باندھے منت دی درباروں پر

سارے جنگل چھان لیے ہیں سارے صحرا دیکھ لیے

دنیا پھر بھی تنگ رہی ہے تیرے تابعداروں پر

آنکھیں موند لی آخر رستہ دیکھنے والے پیڑوں نے

اونچائی کے شوق میں پنچھی جا اُترے میناروں پر

دانش نقوی ہم لوگوں کا ایک ٹھکانہ تھوڑی ہے

لاد لیے ہیں خیمے تو ناراض نہ ہو بنجاروں پر


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment