Saturday, 14 August 2021

اک خواب میں آنکھیں ملتے ہوئے

 اس خواب میں


اک خواب میں آنکھیں ملتے ہوئے

اک آس کی چھایا ڈھلتے ہوئے

اک خوف کے من میں پلتے ہوئے

اب موڑ یہ کیسا آیا ہے

سنسار پہ رنگ سا چھایا ہے

آکاش کے رم جھم تاروں نے

سو روپ دکھاتی بہاروں نے

ساگر کے پلٹتے دھاروں نے

اک بات کہی اک مان دیا

تن من کو انوکھا گیان دیا

اک جوت جگائی جیون میں

اک رنگ اتارا درپن میں

اک خواب کھلایا ہے من میں

اس خواب میں جینا مرنا ہے

اب کام یہی بس کرنا ہے


مبین مرزا

No comments:

Post a Comment