Saturday, 14 August 2021

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید

 یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید

تشنگی بھی سراب ہے شاید

کچھ کسی کو نظر نہیں آتا

روشنی بے حساب ہے شاید

میں سزا ہوں تِری خطاؤں کی

تُو مِرا انتخاب ہے شاید

یہ جسے ہم سکون کہتے ہیں

باعثِ اضطراب ہے شاید

اس کا لہجہ گلاب جیسا ہے

طنز خارِ گلاب ہے شاید

ہر نئی بار اک نیا پن ہے

وہ غزل کی کتاب ہے شاید

کیا محبت اسے بھی ہے مجھ سے

مختصر سا جواب ہے شاید

میں بھی محرومِ خواب ہوں احمد

وہ بھی زیرِ عتاب ہے شاید


محمد احمد

No comments:

Post a Comment