کسی کو جھوٹی نمائشوں کا کسی کو شہرت کا مسئلہ ہے
ہمیں سلیقے سے شعر کہنے کا، اور محبت کا مسئلہ ہے
بقایا بے شک نظر میں رکھو نگاہ چہرے پہ مت ٹکانا
وہ بات یہ ہے کہ میری آنکھوں کو تھوڑا وحشت کا مسئلہ ہے
اتر رہی ہیں جو آسماں سے بلائیں سیدھے ہمارے سر پر
تمہیں دکھا بھی نہیں سکیں گے، یہی تو قامت کا مسئلہ ہے
ابھی تو کچھ دن ہوئے ہیں تم کو ابھی نہ پوچھو کہ کون ہوں میں
بتا سکوں گا نہ اتنی جلدی بڑی وضاحت کا مسئلہ ہے
ہماری تکلیف جان پائے گا جس کا سینہ پھٹا ہوا ہے
ہماری باتیں سمجھ سکے گا جسے اذیت کا مسئلہ ہے
گزر کے بھی جو ٹھہر گئی ہے جسے بھلا کر بھی سوچتا ہوں
یہ میرے دن جو رکے ہوئے ہیں اس ایک ساعت کا مسئلہ ہے
دانش نقوی
No comments:
Post a Comment