Tuesday, 19 October 2021

مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ہو

 مُکھ اُجلا، آنکھیں متوالی، میرے یار کے لب یاقُوتی ہو

گرے تال پہ سرگم زلفوں کے قد اونچا چال اچُھوتی ہو

دل چین پڑے جی رقص کرے من میل جلے تن موج کرے

میری روح سے جسم کا بوجھ ہٹے ذرا ہاتھ لگا ملکُوتی ہو

تیرا جسم ہے دیوتا جسموں کا میرے ہاتھ پجاریوں والے ہیں

تیرا دامن پاک دو عالم سے، میرے دل میں بے کرتوتی ہو

تیری دو آنکھوں میں پنہاں ہیں انمول خزانے وحدت کے

تیرے سامنے دنیا کیا شئے ہے تیری اس سے قیمتی جوتی ہو

میری سانسیں کھینچ لے سانسوں سے میری دھڑکن روک دے ہاتھوں سے

مجھے اپنے جسم میں ضم کر لے، ذرا پاس تو آ لاہوتی ہو


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment