Monday, 21 March 2022

وحشت تو کیا سوچ کے مجھ سے حصہ مانگنے آئی ہے

 وحشت تو کیا سوچ کے مجھ سے حصہ مانگنے آئی ہے

میرے پاس تو خود اپنی مقدار سے کم تنہائی ہے

کس نے سوچا عشق کے کھیل میں اس کا ساتھ نبھاؤں گا 

کس نے میرا نام پکارا؟، کس کی شامت آئی ہے؟

تم اب قیس کی شہرت دیکھنے لگ جاؤ تو مرضی ہے

ورنہ میں نے کچھ دن اس سے اچھی خاک اڑائی ہے

مجھ میں رہ کر آخر اس کو مشکل پیش تو آئے گی

مچھلی ستھرے پانی کی ہے اور تالاب میں کائی ہے

اس نے مجھ کو تھوڑا بہت اگر کچھ بول دیا تو کیا

میں نے بھی تو اس کو اپنی ساری چپ سنوائی ہے

جانے صبر کا پھل کیسا ہو لیکن تیرے کہنے پر

امیدوں کا پانی دے کر گھر میں آس اُگائی ہے


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment