وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لیے
اپنے سر لیں میں نے کیا کیا آفتیں تیرے لیے
کر لیا نظارۂ حسن اپنی آنکھوں پر حرام
میں نے رد کر دیں نظر کی دعوتیں تیرے لیے
تیرے ملنے کے لیے ممکن تھیں جتنی صورتیں
میں نے کر ڈالیں وہ ساری صورتیں تیرے لیے
دشمنوں کی پھبتیاں اور دوستوں کی لعن طعن
اوڑھ لیں دنیا کی ساری لعنتیں تیرے لیے
بیٹھ کر تیری گلی میں بیٹھنے والوں کے پاس
خاک کر لیں اپنی شخصی عظمتیں تیرے لیے
اپنی عزت آپ کرنے کا بھی جن کو حق نہیں
میں نے ان لوگوں کی کی ہیں عزتیں تیرے لیے
اپنی خدمت جن سے لینے میں شرافت کو ہو عار
کی ہیں ان لوگوں کی میں نے خدمتیں تیرے لیے
کل جو میری منتیں کرتے تھے اپنے واسطے
آج میں کرتا ہوں ان کی منتیں تیرے لیے
تیرے قدموں کے سوا ان کی تلافی ہی نہیں
میں جو برداشت کی ہیں ذلتیں تیرے لیے
مجھ کو جن کی قسمتوں نے کر رکھا تھا پائمال
روند ڈالیں میں نے ان کی قسمتیں تیرے لیے
جن مزاروں پر خدا کے ماننے والے نہ جائیں
میں نے ان پر جا کے مانیں منتیں تیرے لیے
کفر شرماتا ہے جن سے جھینپتا ہے جن سے شرک
میں نے کی ہیں کیسی کیسی بدعتیں تیرے لیے
عاملوں نے فرض پڑھوا دیں نمازیں سیکڑوں
دو کی چار اور چار کی دو رکعتیں تیرے لیے
راحت دارین میں بھی وہ خوشی مفقود ہے
جس خوشی سے میں نے جھیلیں آفتیں تیرے لیے
جن میں ہوتا تھا مرے دل پر نزول وحی شعر
وقف آہ و نالہ ہیں وہ ساعتیں تیرے لیے
کاش تو لکھے کہ بسملؔ کچھ خبر بھی ہے تجھے
کس قدر غمگیں ہیں میری خلوتیں تیرے لیے
بسمل سعیدی
No comments:
Post a Comment