Monday, 21 March 2022

وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لیے

وقف کر کے زندگی کی ساعتیں تیرے لیے

اپنے سر لیں میں نے کیا کیا آفتیں تیرے لیے

کر لیا نظارۂ حسن اپنی آنکھوں پر حرام

میں نے رد کر دیں نظر کی دعوتیں تیرے لیے

تیرے ملنے کے لیے ممکن تھیں جتنی صورتیں

میں نے کر ڈالیں وہ ساری صورتیں تیرے لیے

دشمنوں کی پھبتیاں اور دوستوں کی لعن طعن

اوڑھ لیں دنیا کی ساری لعنتیں تیرے لیے

بیٹھ کر تیری گلی میں بیٹھنے والوں کے پاس

خاک کر لیں اپنی شخصی عظمتیں تیرے لیے

اپنی عزت آپ کرنے کا بھی جن کو حق نہیں

میں نے ان لوگوں کی کی ہیں عزتیں تیرے لیے

اپنی خدمت جن سے لینے میں شرافت کو ہو عار

کی ہیں ان لوگوں کی میں نے خدمتیں تیرے لیے

کل جو میری منتیں کرتے تھے اپنے واسطے

آج میں کرتا ہوں ان کی منتیں تیرے لیے

تیرے قدموں کے سوا ان کی تلافی ہی نہیں

میں جو برداشت کی ہیں ذلتیں تیرے لیے

مجھ کو جن کی قسمتوں نے کر رکھا تھا پائمال

روند ڈالیں میں نے ان کی قسمتیں تیرے لیے

جن مزاروں پر خدا کے ماننے والے نہ جائیں

میں نے ان پر جا کے مانیں منتیں تیرے لیے

کفر شرماتا ہے جن سے جھینپتا ہے جن سے شرک

میں نے کی ہیں کیسی کیسی بدعتیں تیرے لیے

عاملوں نے فرض پڑھوا دیں نمازیں سیکڑوں

دو کی چار اور چار کی دو رکعتیں تیرے لیے

راحت دارین میں بھی وہ خوشی مفقود ہے

جس خوشی سے میں نے جھیلیں آفتیں تیرے لیے

جن میں ہوتا تھا مرے دل پر نزول وحی شعر

وقف آہ و نالہ ہیں وہ ساعتیں تیرے لیے

کاش تو لکھے کہ بسملؔ کچھ خبر بھی ہے تجھے

کس قدر غمگیں ہیں میری خلوتیں تیرے لیے


بسمل سعیدی

No comments:

Post a Comment