تیری غداریوں سے واقف ہوں
ان اداکاریوں سے واقف ہوں
میں نے مدت سے تیری قید سہی
تیری کمزوریوں سے واقف ہوں
بے وجہ جو حرام کھاتے ہیں
ایسے پٹواریوں سے واقف ہوں
میں ادا باز تو نہیں، پھر بھی
اپنی فنکاریوں سے واقف ہوں
جو مِرا دل بنا سکیں بغداد
ایسے تاتاریوں سے واقف ہوں
جو طلب ایسے خود کشی کرتے
ان کی مجبوریوں سے واقف ہوں
نعیم طلب
No comments:
Post a Comment