Tuesday, 11 January 2022

شکر ہے اب کے بیکلی کم ہے

شکر ہے اب کے بیکلی کم ہے

آج کل ان سے دوستی کم ہے

سانس لینے میں دم نکلتا ہے

ان ہواؤں میں کچھ نمی کم ہے

تم اسے زخم دل دکھاتے ہو

وہ جو قاتل ہے آدمی کم ہے

تاب بھر اس میں ہے جلانے کی

اپنے سورج میں روشنی کم ہے

ہم تو دنیا کو کیا سے کیا کر دیں

کیا کریں اپنی زندگی کم ہے

لگ رہا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

آج محفل میں کھلبلی کم ہے

کام کے ہم بھی آدمی ہیں اب

آج کل ہم میں عاشقی کم ہے

ان سے اظہر! تو ہم نہیں جن میں

صرف صورت ہے شاعری کم ہے


اظہر بخش

No comments:

Post a Comment