خشک پتوں کی یہ مجبوری، طرفداری نہ تھی
آندھیوں کے ساتھ ہو لینے میں دُشواری نہ تھی
تم نے کیسے اپنی دنیا سے الگ جانا مجھے؟
میرے حصے میں بھی بے ہوشی تھی سرشاری نہ تھی
بس یوں ہی بیٹھے بٹھائے دھک سے رہ جاتا ہے دل
زندگی پہلے کبھی ایسی تھکی ہاری نہ تھی
اب تو سر پر آسماں بھی بوجھ سا لگنے لگا
ان دنوں دیوار و در سے اتنی بے زاری نہ تھی
اب کے ہیں بلراج! جو دُشمن قطار اندر قطار
ان میں تو ایسی کسی سے دوستی یاری نہ تھی
بلراج بخشی
No comments:
Post a Comment