مرے محلے میں رہنی والی گلاب جیسی حسین لڑکی
مصوری سے لگاؤ رکھتی تھی
اور فوٹو بنا بنا کر تمام گھر کو سجایا کرتی
وہ سارا دن بس یہ کام کرتی تھی
ہاتھ اس کے تو کتنے رنگوں سے بھر سے جاتے
عجیب لڑکی
عجیب اتنی کہ بیچ فوٹو پسینہ ماتھے پہ جب بھی آتا
وہ پونچھ لیتی تھی اپنی رنگیں ہتھیلیوں سے
تو رنگ ماتھے پہ پھیل جاتا
کچھ ایسے لگتا کہ ایک بچے نے چاند ہاتھوں میں لے کے
اس میں عجیب سا رنگ بھر دیا ہے
وہ چاند جیسی حسین لڑکی
کمال کی وہ مصورہ تھی
مجھے وہ تکتی تو مجھ سے کہتی
تمہاری فوٹو بناؤں گی میں
تمہیں بھی گھر میں سجاؤں گی میں
میں اس کے وعدے کا منتظر تھا
مرا بھی فوٹو بنائے گی وہ
مجھے بھی گھر میں سجائے گی وہ
یہ سوچ کر خوب مسکراتا
پھر ایک دن میں گلی سے گزرا
تو اس کے گھر پر لکھا ہوا تھا
کہ گھر یہ خالی پڑا ہوا ہے
کسی کو گھر کی اگر ضرورت پڑے
تو نیچے لکھا ہے نمبر وہ کال کر لے
وہ میری فوٹو بنانے والی
وہ مجھ کو گھر میں سجانے والی
مجھے تو گھر میں سجا چکی تھی
مجھے وہ فوٹو بنا چکی تھی
وہ پیاری لڑکی مرے محلے سے جا چکی تھی
رئیس جامی
No comments:
Post a Comment