Monday, 21 March 2022

گلاب جیسی حسین لڑکی

 مرے محلے میں رہنی والی گلاب جیسی حسین لڑکی

مصوری سے لگاؤ رکھتی تھی 

اور فوٹو بنا بنا کر تمام گھر کو سجایا کرتی

وہ سارا دن بس یہ کام کرتی تھی 

ہاتھ اس کے تو کتنے رنگوں سے بھر سے جاتے

عجیب لڑکی

عجیب اتنی کہ بیچ فوٹو پسینہ ماتھے پہ جب بھی آتا

وہ پونچھ لیتی تھی اپنی رنگیں ہتھیلیوں سے

تو رنگ ماتھے پہ پھیل جاتا

کچھ ایسے لگتا کہ ایک بچے نے چاند ہاتھوں میں لے کے 

اس میں عجیب سا رنگ بھر دیا ہے

وہ چاند جیسی حسین لڑکی

کمال کی وہ مصورہ تھی

مجھے وہ تکتی تو مجھ سے کہتی

تمہاری فوٹو بناؤں گی میں

تمہیں بھی گھر میں سجاؤں گی میں

میں اس کے وعدے کا منتظر تھا

مرا بھی فوٹو بنائے گی وہ

مجھے بھی گھر میں سجائے گی وہ

یہ سوچ کر خوب مسکراتا

پھر ایک دن میں گلی سے گزرا 

تو اس کے گھر پر لکھا ہوا تھا

کہ گھر یہ خالی پڑا ہوا ہے 

کسی کو گھر کی اگر ضرورت پڑے 

تو نیچے لکھا ہے نمبر وہ کال کر لے

وہ میری فوٹو بنانے والی

وہ مجھ کو گھر میں سجانے والی

مجھے تو گھر میں سجا چکی تھی

مجھے وہ فوٹو بنا چکی تھی

وہ پیاری لڑکی مرے محلے سے جا چکی تھی


رئیس جامی

No comments:

Post a Comment