ای میل
اے دوست
میری یہ ای میل
ہے تمہارے نام
امید ہے تم اچھے ہو گے
ہمیشہ کی طرح
میرے بِنا
میں بھی ٹھیک ہوں
بس یوں ہی سمجھ لو
تمہارے بِنا
مگرتم اکثر یاد آتے ہو
بے اختیار لمحوں میں
صبح کی نرم ہواؤں میں
شام کی خنک فضاؤں میں
یاد ہے یہ جملہ تمہی نے
مجھ سے کہا تھا؛
محبوب کو یاد کرنے کا
کوئی موسم تو نہیں ہوتا ہے
ہاں یاد آیا
اب کب ملو گے؟
خوشبو سے مہکتے ہوئے
کسی کنج چمن میں
یا پھر لبِ ساحل
ایک دُوجے کا ہاتھ تھامے
نرم گیلی ریت پرچلتے ہوئے
حال دل کہتے ہوئے
یا پھر خاموش ہی رہتے ہوئے
ہاں، دل کی اپنی زبان ہوتی ہے
جو آنکھوں سے بات کرتی ہے
اور آنکھیں، جن کو
لفظوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہے
زائرہ عابدی
No comments:
Post a Comment