دردِ دل نے نئی کسک پائی
آپ کی یاد جب کبھی آئی
کون جانے جو دل پہ گزری ہے
کس نے ناپی ہے غم کی گہرائی
اب جنوں کا خدا ہی حافظ ہے
وحشتِ دل نے لی ہے انگڑائی
آشیانے کی خیر ہو یا رب
پھر گھٹاؤں میں برق لہرائی
اشک پھر آج ہو گئے ارزاں
چھٹ گیا دامنِ شکیبائی
کرتے رہتے ہیں جو غلط تنقید
وہ سمجھتے ہیں اس کو دانائی
راہی پا کر سراغ منزل کا
عزم میں آ گئی توانائی
کاظم رضا راہی
No comments:
Post a Comment