یہ میری قسمت پہ جو پڑا ہے وبال دُکھ ہے، کمال دکھ ہے
جو سوچتا ہوں اذیتیں ہیں خیال دُکھ ہے، کمال دکھ ہے
جو آنے والا ہے وقت اس کو کہوں میں کیسے کہ اچھا ہو گا
وہ گزرا ماضی تو دکھ ہی دکھ تھا یہ حال دکھ ہے، کمال دکھ ہے
اگرچہ مجھ کو خبر نہیں ہے میں پھر بھی تجھ کو جواب دہ ہوں
تمہارے ہونٹوں پہ جو رکا ہے سوال دکھ ہے، کمال دکھ ہے
ہماری آنکھوں میں رتجگوں کی تھکن نمایاں سہی، مگر ہاں
جو تجھ کو چہرے پہ دِکھ رہا ہے جمال دکھ ہے، کمال دکھ ہے
یہ غم کو سہنا بھی جانتا ہے، یہ دکھ میں رہنا بھی جانتا ہے
غدیر غازل کی تو ازل سے ہی ڈھال دکھ ہے، کمال دکھ ہے
غازل غدیر
No comments:
Post a Comment